Honeymoon Per Jana Parra Bahut Mahanga

ہنی مون پر جانا پڑا  بہت مہنگا 

شادی ہوئی تو شوہر ہفتے بعد مجھے ہنی مون پر لے گیا رات ہوئی تو ہم شنگریلا ہوٹل میں ٹھہر گئے آدھی رات کو ہوٹل کا دروزہ بجنے لگا دروازہ کھولا تو ایک 12 سالہ لڑکا کھڑا تھا کہنے لگا میڈم باہر ٹھنڈ بہت ہے آج کی رات اگر پناہ مل جائے مجھے ترس آیا اس کو لا کر پاس بیڈ پر سلالیا آنکھ کھلی ہوش اُڑ گئے جسے بچہ سمجھ کر پاس لیٹا یا وہ تو ۔۔۔۔؟؟ 

مجھ جیسے خواب شاید بہت سی لڑکیوں کے ہوں۔ یا شاید ہر وہ لڑکی یہی خواب آنکھوں میں سجائے اپنے حجلہ عروسی میں۔ بیٹھتی تھی جو میں نے سجائے تھے کہ شادی کے چند دن بعد وہ شوہر کے ہمراہ ہنی مون پر جائے گی رونمائی کی انگوٹھی پہناتے ہوئے جب اسد نے مجھے سے یہ کہا ہم چند دن بعد ایبٹ آباد کے ٹور پر جائیں گے اور اس کے بعد کشمیر اور مانسہرہ بھی یہ سن کر تو میری آنکھیں ہی چمک گئی تھی میں نے آج تک کراچی کے باہر کچھ نہیں دیکھا تھا اس لیے مری ایبٹ آباد اسلام آباد مانسہر اوغیرہ جانا ایک حسین خواب جیسا تھا دو دن میں نے ہنی مون ٹور کے ہی خواب دیکھے تھے لیکن میری بری قسمت کہ جس دن ہمیں جانا تھا میری ساس سیریوں کی گرگی میرے شوہر بہن بھائیوں میں۔ سب سے بڑے تھے اس لیے وہ اپنی والدہ کو اس حالت میں چھوڑ کے جا نہیں سکتے تھے

Click for More

پھر گھر کے واحد کفیل بھی تھے کیونکہ میرے سسر کا انتقال ہو چکا تھا میری ساس کے پاؤں کے فیکچر نے تو جیسے میرے ارمانوں پر پانی ہی پھیر دیا تھا میں جو اپنا پورا سامان پیک کیے بیٹھی تھی کہ پندرہ دن اسد کے ساتھ یاد گار بناؤ گی سب جگہ گھوموں  گی پھرو گی سیلفیاں بناؤ کر اپنی دوستوں کو جیلس فیل کرواں گی سارا پلان ہی چوپٹ ہو گیا تھا میں نے روتے ہوئے اپنا سامان بیگ سے نکالا تھا دو ماہ ساس کو بستر پر بیٹھا کر انکی خدمت کرتی رہی لیکن دل میں میرے ابھی بھی ہنی مون کی حسرت باقی تھی۔ تین ماہ کی انتھک خدمت کے بعد میری ساس اب بھلی چنگی ہو گئی تھی میں نے شوہر سے دوبارہ سے ہنی مون کی فرمائش کی میں نے ساس سے اجازت مانگی تو ساس نے بھی انکار نہیں کیا کیونکہ میری خدمت رنگ لے آئی تھی وہ مجھ سے بہت خوش تھیں

بڑی منتیں مرادوں کے بعد میری یہ خواہش پوری ہونے جارہی تھی جب ہم لوگ پنڈی جانے کے لیے ٹرین میں بیٹھے اس قدر خوش تھے جیسے میں نے پوری کائنات کو مسخر کر لیا ہو پورے ٹرین کے سفر میں میں اپنے شوہرسے یہی باتیں کرتی رہی کہ ہم یہاں بھی جائیں گئے وہاں بھی جائیں گئے میں چاہتی تھی کہ 15 دن کے ٹرپ کو میں خوبی انجوائے کروں کیونکہ جانتی تھی کہ اس کے بعد دوبارہ ایسا موقع مشکل سے ہی ملے گا اسلام آباد میں ہم دو دن رہے تھے اور فیصل مسجد اور اسلام آباد کی مشہور جگہوں کی خوب سیر سپاٹے کیے تھے ہمارا دوسرا پڑاؤ ایبٹ آباد تھا خو بصورت وادیوں کا منظر تھا وہاں ایک شنگریلہ ہوٹل پر ہم ٹھہرے تھے خوبصورت ہوٹل اور اس کے باہر کا منظر بھی بے حد حسین تھا لیکن شاید ہماری قسمت اچھی نہیں تھی دسمبر کی آخری تاریخیں تھیں اور جنوری کی ابتدا ہونے والی تھی

Click for More

سردی کی شدت کے ساتھ ساتھ برف باری کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا میں جو گھومنے پھرنے کے پلان بنا کر آئی تھی برف باری اور سردی کی شدت کی وجہ سے کمرے سے باہر بھی نکلنے کو تیار نہ تھی اس پر یہ ستم کہ گرم پانی کی سہولت بھی جاچکی تھی کیونکہ سوئی گیس پائپو میں جم چکی تھی اور کچھ میں شروع سے کراچی میں رہی تھی اس لیے نہ تو زیادہ گرمی برداشت کرنے کی عادت تھی نا ہی اتنی سخت سردی لیکن اس ٹرپ میں جو کچھ میرے ساتھ ہو اوہ ناقابل فراموش باتیں تھیں لوگوں کو اپنا ہنی مون ڈرپ پیاد محبت بھری باتوں اور خوبصورت مناظروں سے یادر ہتا ہو گا لیکن مجھ پر پڑنے والی پے در پہ مصیبتوں نے مجھے یہ ٹرپ کبھی بھی بھولنے نہیں دیا کیونکہ جو کچھ میرے ساتھ ہوا تھا وہ ایک ناقابل برداشت حقیقت تھی

جیسے جیسے دن گزر رہے تھے برف باری کا سلسلہ بھی بڑھتا جارہا تھا درجہ حرارت نقطہ منجمد سے بھی کرچکا تھا اب تو برف اس قدر زیادہ ہو چکی تھی کہ سڑکیں برف سے بلکل ڈھک چکیں تھیں یہاں تک کہ آنے جانے کے راستے تک بند ہو چکے تھے ہوٹل میں کمرہ نہیں مل رہا تھا لوگوں کی گاڑیاں راستوں میں ہی پھنس چکی تھی بہت سے حادثات کی اطلاع ہمیں مل رہی تھیں میرا شوہر اسد ہے حد پریشان تھا کہہ رہا تھا کہ اس بار اتنی برف باری ہونے سے سنا ہے کہ کئی سال کا ریکارڈ ٹوٹا ہے میں سردی سے ڈبل رضائی میں بھی کپکپا رہی تھی آتش دان کی آگ بھی کمرے میں حدت پیدا کرنے کے لیے ناکافی تھی اسد نے کہا کہ تم کمرے میں بیٹھو میں کھانے پینے کے لیے کچھ سامان لے آتا ہوں کیونکہ محکمہ موسمیات کے مطابق دو چار دن برف باری بہت زیادہ پڑھے گی

Click for More

 ہوسکتا ہے کہ ہمیں کھانے پینے کے بھی لالے پڑ جائیں بہتر ہے کہ ہم اپنا انتظام کر لیں بات تو ٹھیک ہی تھی میرے شوہر ہوٹل کے کمرے سے نکل کر چلے گئے دوپہر کے 12 بج رہے تھے لیکن سورج نہ ہونے کے برابر ہی نکلا تھا نکلتا بھی تھا تو بادلوں کی اوٹ میں چھپ جاتا تھا میری اس وقت ہوا ہوئی جب شام کے گہرے سائے رات میں بدلنے لگے برف باری بھی زوروں سے شروع ہو چکی تھی پہلے کی نسبت آج برف باری کی شدت زیادہ تھی مجھے اسد کی فکر ہونے لگی وہ ابھی تک واپس نہیں آئے تھے کئی گھنٹے گزر چکے تھے میرے دل میں ہزار قسم کے وسوسے آنے لگے میں نے اپنے اوپر گرم شال لپیٹی اور ہمت کر کے کمرے کی کھڑکی تک آئی تھی بھوک بھی شدت سے لگ رہی تھی کیونکہ صبح کا ناشتہ ہی کیا تھا اسد نے کہا تھا کہ میں ہوٹل سے کچھ نہ منگواؤں

کیونکہ ہر چیز تین گناہ زیادہ قیمت پر مل رہی تھی لیکن جیسے ہی میں نے کھڑکی کے سامنے سے پردہ ہٹا یا سامنے کا منظر دیکھ کر میری جان نکل گئی تھی سامنے لگے درخت تک برف سے چھپ گئے تھے برف باری پچھلے کئی گھنٹوں سے بدستور ہو رہی تھی اب تو میرا دل پریشان سا ہونے لگا تھا جس قدر برف باری بڑھ چکی تھی راستے بند ہو چکے تھے یقینا میرا شوہر جہاں بھی تھا وہاں بری طرح سے پھنس چکا تھا فون کی سروسز بھی نہیں آرہی تھیں میں نے کئی بار اپنے شوہر کے موبائل پر کال کی تھی لیکن موبائل مسلسل بند تھا میری زندگی تو مفلوج ہو کر رہ گئی تھی  بھوک بھی بہت زیادہ لگ رہی تھی کھانے کو بھی کچھ نہ تھا اس پر یہ ستم کے میرا شوہر بھی ابھی تک نہیں آیا تھا اور نہ ہی میرا اس سے کوئی رابطہ ہو رہا تھا میں بے حد پریشان تھی ابھی میں انہی چیزوں سے گھبرارہی تھی

Click for More

کبھی دل میں یہ خیال آتا کہ کہیں اسد کے ساتھ کوئی حادثہ نہ پیش آگیا ہو کیونکہ اکثر برف باری کی وجہ سے حادثات کی خبریں مل رہی تھیں کبھی یہ دل میں خیال آتا کہ ہو سکتا ہے کہ جہاں وہ سامان لینے گئے ہوں وہی رک گئے ہوں کہ برف باری روکے گی تب ہی نکلیں گئے دل ہی دل میں میں اپنے شوہر کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی اور یہ بھی دعا مانگ رہی تھی کہ وہ جلد از جلد میرے پاس آجائے کیونکہ میں اکیلی تھی میر ادل بار بار خوف کے ہلکورے کھا رہا تھا کہ اچانک سے میرے کمرے کی لائٹ بند ہو گئی میری تو جان ہی نکل گئی تھی ایک تو شدید برف باری اوپر سے آتش دان بھی بالکل بند ہو چکا تھا لکڑیاں بھی راکھ بن چکی تھی کمرے میں سردی کی شدت بڑھ چکی تھی شوہر بھی میرے پاس نہ تھا اور اس پر شاید برف باری کی شدت نے بجلی کو متاثر کر دیا تھا

 کمرے میں یک دم ہی گھپ اندھیرا ہو چکا تھا میں کمرے کی چیزوں کو ٹولتے ہوئے بیڈ تک پہنچی تھی اور دوبارہ سے رضائی میں گھس گئی میری برداشت ختم ہو چکی تھی اس لیے اب میں رونے لگی تھی اوررو کے دعا مانگ رہی تھی کہ اللہ کرے اسد آ جائے بھوک کے مارے میری جان بھی نکل رہی تھی کہ اچانک سے میرے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی میں بری طرح سے چونک گئی تھی اس گھپ اندھیرے میں کہاں جاتی میں نے بیڈ پر ہی ذرا سی آواز نکال کے پوچھا کہ کون ہے ہوٹل کا ویٹر تھا کہنے لگا کہ آپ نے اگر کھانا کھانا ہے تو کھا لیں کیونکہ صبح سے آپ کے کمرے سے کوئی بھی کھانے کا آرڈر نہیں آیا میں نے اسے کہا کہ ٹھیک ہے مجھے ایک پلیٹ کھانا لا دو کچھ ہی دیر میں میرے کمرے کا دروازہ دوبارہ کھٹکا تھا کھانا آچکا تھا میں نے دروازہ کھولا تو سامنے ویٹر ٹرے میں کھانا لیے ہوئے تھا   

Click for More

میں نے ٹرے اندر کی تو وہ مجھے سر سے پیروں تک دیکھنے لگا کہنے لگا آپ کے شوہر کہاں ہیں صبح سے نظر نہیں آرہے اس کی بات سن کر مجھے ایسا لگا جیسے کسی نےمیرا دل  مٹھی میں مسل دیا ہو کیا وہ ہماری جاسوسی کر رہا تھا کہ میرا شوہر کمرے سے کب گیا ہے اور کب واپس آتا ہے میں نے کہا کہ وہ کسی کام سے گئے ہیں کچھ ہی دیر میں واپس لوٹ آئیں گئے میری بات سن کر وہ کہنے لگا کہ جتنی باہر برف باری ہو رہی ہے تمام راستے بند ہو چکے ہیں بی بی کھانا کھاؤ اور لمبی تان کر سو جاؤ شوہر تمہارا صبح سے پہلے تو یہاں آنہیں سکتا مجھے ویٹر کا یہ انداز بہت ہی برا لگا تھا میں نے دھڑ سے دروازہ بند کیا بمشکل ہی میں نے آدھا ہی کھانا کھایا تھا بار بار اسد کے بارے میں سوچ کر مجھے جس قدر ڈپریشن ہو رہا تھا مجھ سے کھانا تک نہیں کھایا جا رہا تھا

حالانکہ مجھے بھوک بڑی شدت سے لگی ہوئی تھی موبائل کی کچھ سگنل آئے تو مجھے اسد کا میسج موصول ہوا کہ وہ راستے میں پھنس چکا ہے صبح سے پہلے نہیں آسکتا لیکن پھر بھی وہ کوشش کرے گا جیسے ہی راستے صاف ہوئے تو وہ جلد مجھ تک پہنچ جائے گا میں جتنی پریشان تھی اسد کا یہ میسج میرے اندر جیسے زندگی لے آیا تھا کہ وہ جہاں بھی ہے محفوظ ہے بالکل ٹھیک ہے بہر حال میں نے کھانا کھایا اور پھر اپنی رضائی میں کھس گئی اور سونے کی کوشش کرنے لگی ایک تو مجھے اکیلے سونے کی عادت بھی نہ تھی پورا کمرہ خالی تھا اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا صرف موبائل کی ٹارچ لائٹ تھی وہ بھی بیٹری ختم ہوتے ہی گل ہو چکی تھی مجھے ابھی نیند آئی ہی تھی کہ میرے کمرے پر بڑی زور سے دستک ہوئی تھی

Click for More

میں ہر بڑا کر اٹھ بیٹھی تھی رات کے اس پہر کون ہو سکتا تھا شاید اسد واپس آچکا تھا اس سوچ نے تو میرے اندر جیسے کوئی توانائی سی بھر دی تھی میں نے جھٹ سے خود سے رضائی ہٹائی گرم شال لپیٹی اور سردی کے مارے تھر تھراتے قدموں سے چلتی ہوئی ٹول ٹٹول کر کمرے کے دروازے تک پہنچی تھی بنا پوچھے ہی میں نے دروازہ کھول دیا میرے سامنے ایک 12 سالہ بچہ تھا جو بری طرح سے سردی سے کانپ رہا تھا کہنے لگا مجھے ایک رات کے لیے اپنے کمرے میں رکھ لو بی بی ورنہ سردی کے مارے میں مر جاؤں گا پہلے تو میں نے انکار کر دیا میں بھلا کیسے کسی لڑکے کو اپنے کمرے میں رکھ سکتی تھی پھر اسد بھی کمرے میں نہ تھے اگر وہ ہوتے تو شاید میں یہ بھلا کر بھی دیتی وہ بیچار امیری منت سماجت کرتا رہا میں مسلسل انکار کرتی رہی 

وہ میر ا دروازہ چھوڑ کر آمنے سامنے کے جتنے بھی کمرے تھے سب سے مدد مانگتا رہا لیکن کسی نے بھی اس کی مدد نہیں کی تھی بڑا مایوس ہو کر وہ وہاں سے چلا گیا میں دوبارہ سے اپنے بیڈ پر آکر بیٹھ گئی لیکن میرے دل میں یہ ملال سا ہونے لگا کہ وہ 12 سال کا بچہ میرا بھلا کیا بگاڑ سکتا تھا ایک رات کی ہی تو بات تھی بلکہ آدھی رات ویسے ہی بیت چکی تھی صرف چند گھنٹوں کی بات تھی اگر میں اسے کمرے میں رکھ لوں تو صوفے میں پڑا پڑا سو جائے گا جیسے ہی صبح ہو گی وہ نکل جائے گالیکن میں نہیں جانتی تھی کہ وہ 12 سالہ چھوٹا بچہ میرے ساتھ یہ سب کر گزرے گا کہ ۔۔۔؟؟  میں نے کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا وہ بچہ سامنے درخت کی اوٹ میں بیٹھا ہوا بری طرح سے کانپ رہا تھا میر ادل اسے دیکھ کر تڑپ کر رہ گیا شاید غریب مزدور بچہ تھا جو یہاں پھنس گیا تھا

Click for More

پہلے تو میں نے اسے کھڑ کی سے ہی اشارے کیے کہ وہ مجھے دیکھ لے اور پھر میں اسے اپنے کمرے میں آنے کا اشارہ کر دوں لیکن وہ بچہ اپنے گھٹنوں پر بازوں پھیلائے سکڑ کر بیٹھا شاید سردی برداشت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میرے دل سے یہ خیال گزرا کہ اگر یہ مر گیا تو شاید میں کبھی خود کو معاف نہیں کر پاؤں گی میں نے اپنی جیکٹ پہنی اور خود کو جتنا لپیٹ سکتی تھی لپیٹ کر اپنے کمرے سے باہر نکل گئی جیسے ہی ہوٹل سے باہر گئی سرد ہوا کے تھپڑوں نے مجھے کانپنے پر مجبور کر دیا تھا لیکن مجھے اس بچے کو بچانا تھا اس لئے موسم کی پروا کیے بغیر ہی میں ہوٹل کے باہر کھڑی ہو کر اسے بچے کو پکارنے لگی اس وقت باہر بس ہوا کا ہی شور تھا اس لڑکے کی نظر مجھ پر پڑ چکی تھی میں نے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا وہ اٹھ کر چلتا ہوا میرے پاس آگیا

 میں نے اس کا سرد ہاتھ پکڑے اپنے کمرے میں لے آئی میں نے کہا تم رات یہاں رہ سکتے ہو وہ یہ سن کر خوش ہو گیا میرے پاس کوئی بھی ایکسڑا کمبل یارضائی نہیں تھی میں نے اپنی گرم شال اسے دی اور کہا کہ وہ صوفے پر سو جائے لیکن وہ کہنے لگا کہ وہ آتش دان کے پاس قالین پر ہی سو جائے گا وہاں۔ اسے ٹھنڈ کم لگے گی میں بھی مجبور تھی کیونکہ ڈبل رضائی بس میرے بیڈ پرہی موجود تھی وہ آتش دان کے پاس جا کر لیٹ گیا میں بھی اپنے بیڈ پر جا کر لیٹ گی گرم رضائی میں بھی مجھے ٹھنڈ محسوس ھو رہی تھی پھر وہ بچہ تو اتنی سردی میں۔ بس ایک شال اوڑھے ہی لیٹا تھا  میں نے سوچا چھوٹا بچہ ہی تو ہے بیڈ کے ایک کونے میں سو جائے گا مجھے اس بچے سے کیا خوف ہو سکتا ہے میں نے اس سے کہا کہ سردی بہت زیادہ ہے اس لئے تم بیڈ پر آکر ایک کونے میں لیٹ جاؤ

Click for More

 میرا یہ کہنا تھا کہ وہ فورا سے اٹھ کر بیڈ پر آکر لیٹ گیا ڈبل رضائی میں بھی وہ کانپ رہا تھا کچھ دیر بعد ہی اس کے وجود سے کپکپی ختم ہوئی تھی میں بھی کروٹ بدل کر سو گئی لیکن ابھی میں گہری نیند میں گئی تھی کہ جب اس لڑکے نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر میری آواز کو دبانے کی کوشش کی اور پھر میرے ساتھ ۔۔۔۔ میرے دونوں ہاتھ پیچھے کو بندھے ہوئے تھے منہ پر بھی رومال باندھ کر مجھے صوفے پر بیٹھا دیا گیا تھا اس وقت میرے کمرے میں اس بچے کے علاؤہ دو مرد اور تھے جو میرے سامان کی تلاشی لے رہے تھے اور اس میں سے قیمتی زیورات اور نئے کپڑے نکال نکال کر اپنے ساتھ لائے بورے میں ڈال رہے تھے وہ بچہ ایک چور تھا اور اسکے دو ساتھی اور بھی تھے جو مل کر چوری کرتے تھے  وہ لڑکا یہاں کا رہائشی تھا اس لئے یہاں کے موسم کا اثر اس پر اتنا نہیں ہوتا تھا  

جتنا کہ ہم جیسے دوسرے شہروں سے آئے لوگوں کو ھوتا تھا وہ یو نہی لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے خود کو مظلوم ثابت کرتا تھ تاکہ لوگ اسے اپنے ہوٹل کے کمرے میں پناہ دیدے رات کو پھر اس کے ساتھی بھی آجاتے تھے اور پھر سامان چوری کر کے چلے جاتے تھے میری جہز اور بری کے سارے قیمتی جوڑے وہ لوگ نے کر جاچکے تھے میں رورہی تھی صبح جب میرا شوہر والیس آیا تو کمرے کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا وہ ڈر گیا جب اندر داخل ہوا تو مجھے بندھا دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا کیونکہ میں اب بھی رسیوں سے بندھی صوفے پر بیٹھی رو رہی تھی میرے شوہر نے فورا سے مجھے رسیوں سے آزاد کر وایا اور مجھ سے۔ پوچھنے لگا کہ یہ سب کس نے کیا میں نے ساری بات بتائی تو مجھے ہی الٹا ڈانٹنے لگا

Click for More

 کہ میں نے کیوں پناہ دی غلطی شاہد میری ہی تھی مجھے یوں انجان جگہ پر کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرنا چاہیے تھا بہر حال بہت بڑا نقصان تھا جو ہو چکا تھا جیسے ہی راستے صاف ہوئے میرا شوہر مجھے واپس کراچی لے آیا اور پورے راستے مجھ سے یہی کہتا رہا کہ آئندہ کبھی بھی مجھے ہنی مون پر نہیں لیکر جائے گا۔ گھر پہنچ کر ساس نے الگ طعنے دیے تھے کہ سونے کے زیورات ساتھ لے جانے کی کیا ضرورت تھی بہر حال میری بہت بے عزتی ہوئی میں نے اس کے بعد خود ہی ہنی مون پر جانے سے توبہ کرلی

Click for More


Post a Comment

Welcome to my Blog

Previous Post Next Post