Brother-in-law's Relationship

دیور کا رشتہ بھابھی حیران

میں کچھ دنوں سے اپنے شوہر کو پریشان دیکھ رہی تھی۔ پر مجھے ان کی پریشانی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیوں ہے۔ میں پوچھتی تو ٹال دیتے۔ میرا دیور اب مجھے کچھ پریشان لگا تھا۔ میں نے اس سے بھی پوچھنا چاہا پر کہتا کچھ نہیں ہوا بھا بھی۔ تو میں نے اس سے کہا ” پھر تمہارے بھائی کو کوئی شاید پریشانی ہے وہ مجھے پریشان لگ رہے ہیں پر بتا نہیں رہے کچھ چھپا رہے ہیں مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے ” تو میری بات پر میرا دیور خاموش ہو گیا۔ میں نے اس کی خاموشی پر اس کے چہرے کو بغور دیکھا تو وہ کچھ گھبراہٹ میں مبتلا تھا۔ مجھے اس وقت ایسا لگا جیسے شاید وہ دونوں ہی میرا دیور اور شوہر ایک بات پر پریشان تھے بس مجھے نہیں بتا رہے تھے۔ میں اب پریشان ہونے کے ساتھ ساتھ تجس میں مبتلا ہو گئی تھی کہ ایسی کیا بات ہو سکتی ہے جو وہ مجھ سے چھپارہے ہیں۔کیونکہ اس گھر میں میری بات چلتی تھی۔ جیسا میں کروں وہی ہوتا تھا۔
میری ساس اور نند کوئی نہیں تھی۔ صرف ایک دیور تھا جو کنوارہ تھا اور کچھ دن پہلے اس
کا رشتہ ایک جگہ میں نے طے کیا تھا۔ لیکن حیرت کی بات تھی ان لوگوں کو میں نے فون کیا تھا کچھ بات کرنے کے لئے وہ لوگ میری کال نہیں اٹھا رہے تھے اب تو ان کا نمبر بھی بند جارہا تھا۔ لیکن اس وقت دیور کی ایسی حالت دیکھ کر میں نے ٹھان لیا اب تو اپنے شوہر سے پوچھ کر ہی رہوں گی کہ آخر مسئلہ کیا ہے۔ اس لئے جیسے ہی آج وہ کام سے تھکے ہارے آئے تو میں نے ان کو چائے بنا کر دی اور ساتھ بیٹھ کر ان کے چائے ختم ہونے کا انتظار کرنے لگی۔ انہوں نے چائے ختم کی تو میں نے اپنی بات شروع کرنے کا آغاز کیا۔
میں نے اس بار سیدھا ان سے مدعے کی بات پوچھی کہ ” مجھے یہ بتائیں کہ اصل بات کیا ہے میں کب سے آپ کو پریشان دیکھ رہی ہوں اور اپنے دیور کو بھی آپ دونوں ہی مجھے سے کچھ چھپا رہے ہیں جو چھپارہے ہیں مجھے وہ بتائیں بات ” میں نے اس بار اٹل لہجے میں کہا۔ مگر وہ ٹال مٹول سے کام لینے لگے تو صاف صاف کہہ دیا جو بات ہے مجھے وہی بتائی جائے۔ اس بار مجھے بات جانتی ہے جو بھی ہے۔ اتنے دنوں سے میں دیکھ رہی تھی اس بات سے اپنے شوہر کو پریشان ہوتا پھر دیور کو آخر تو مجھے اب تجس ہی ہونا تھا نہ۔ بات جاننے کی جستجو میں کافی بحث وضد کر دی میں نے اپنے شوہر سے ۔ اور پھر جو بات انہوں نے بتائی اس نے میرے پیروں سے زمین نکال دی۔ میں سکتے کے عالم میں اپنے شوہر کو دیکھتی رہی۔
مجھے یقین نہیں آرہا تھا اس بات کا کہ یہ واقعی سچ ہے یا وہ مزاق کر رہے ہیں۔ پر مجھے یقین کرنا پڑا اس بات پر کیونکہ میں نے تو حقیقتاً اس بات پر اپنے شوہر اور دیور کو پریشان دیکھا تھا۔ میں بے بسی سے خاموش ہو گئی کیونکہ میرے پاس الفاظ ختم ہو گئے تھے۔ سمجھ نہیں آرہا تھا ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ ہر بار یہی نتیجہ نکلتا تھا پر کیوں؟ مجھے اس بات نے اس بارسنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اور میں اس وقت واقعی گہری سوچ میں گم ہو چکی تھی کہ کیا کرنا ہے اب۔ جب میرے شوہر نے مجھے شہد کا مارا اور کہا۔ کہاں کم ہو گئی تم میری بات سن کر اب کیا کرنا ہے اس کا کیا حل نکالیں” ان کی بات پر میں ہوش میں آئی اور پریشانی سے ان کے چہرے کو دیکھتی رہی۔

 Click Here For More

میں نے ان سے کہا کہ مجھے دیور کی پریشانی ہو رہی ہے اس پر کیا گزر رہی ہو گی اس بات کی وجہ سے۔ اس بچارے کا تو کوئی قصور نہیں تھانہ۔اصل بات یہ تھی کہ میر ا صرف ایک ہی دیور تھا میری شادی کو پانچ سال ہو گئے تھے میری ساس کو فوت ہوئے تین سال ہو چکے تھے میری کوئی نند نہیں تھی۔ اس وجہ سے گھر کی ساری زمہ داری اور دیور کی بھی دیکھ بھال میرے ذمے تھی۔ اور میں اپنی پورے حق اور سچائی کے ساتھ خوش اسلوبی سے اس زمہ داری کو پورا کر رہی تھی۔ اب میرے دیور کی شادی کی عمر ہو گئی تھی پر مسئلہ یہ ہو رہا تھا کہ دیور کا جہاں رشتہ کرتے اگلے دن ہی انکار ہو جاتا۔ کیونکہ ایک تو میرے دیور کو کم سنائی دیتا تھا۔ اس کو کانوں میں مسئلہ تھا اس وجہ سے۔
اب جہاں میں نے اس بار رشتہ طے کیا تھا وہاں سے بھی اگلے دن ہی جب ان لوگوں کو معلوم ہوا دیور کو کانوں کا مسئلہ ہے کم سنائی دیتا ہے کیونکہ میں نے ذرہ اس بات کو چھپارکھا تھا اس بار کیونکہ جہاں بھی رشتہ کرنے جاتے اگر یہ بات بتاتے تھے تو فوراً انکار ہو جاتا تھا۔ یہ بات میرے شوہر نے مجھ سے چھپائی تھی جبکہ دیور کو بتار بھی تھی۔ اسی بات کی پریشانی ان دونوں کی تھی اور مجھے اس پریشانی سے بچانے کے لئے وہ لوگ یہ بات مجھ چھپا رہے تھے۔ کیونکہ اب مجھے سمجھ آرہا تھا کہ مسئلہ بہت سنگین ہے اس بار کچھ ایسا کرنا ہو گا کہ جس سے یہ مسئلہ بھی بیچ میں نہ آئے اور میرے دیور کی شادی بھی ہو جائے میں اپنے شوہر کو تسلی دے کر کمرے سے باہر نکل گئی۔ سوچا کہ دیور سے اس بارے میں کچھ بات کرتی ہوں کہ کیا کرنا ہے۔ کوئی نہ کوئی حل تو نکل ہی آئے گا اس مسئلے کا۔ دوسرے دن میری پڑوسن نے مجھ سے پوچھا کہ دیور کی شادی کب کروار ہی ہو اب تو رشتہ بھی ہو گیا اس کا تو ۔ اس کی بات سن کر میں اداس ہو گئی۔
میری اداسی دیکھ کر اس نے مجھ سے اس کی وجہ پوچھی تو میں نے اسے بتادی کہ ۔ میرے دیور کا وہ بھی رشتہ ٹوٹ گیا کیونکہ تمہیں پتا تو ہے میرے دیور کو کم سنائی دیتا ہے بس اسی وجہ سے لوگ انکار کر کے چلے جاتے ہیں ” میری بات سن کر وہ بولی کہ تو لوگوں کو نہ بتا یا کر و کل کو خود ہی لڑکی شادی کے بعد سیٹ ہو جائے تمہارے دیور کے ساتھ اس کو کون سی اتنی بڑی بیماری ہے۔اس کی بات سن کر مجھے ہنسی آئی کہ اس بار تو میں نے یہ بات

  Click Here For More

چھپائی تھی پر پتا نہیں کیسے ان کو پھر بھی معلوم ہو گئی تھی۔
لیکن میں نے اپنی پڑوسن کو نہیں بتایا اور اس سے چند باتوں کے بعد بات ختم کرنا چاہی جب اس نے کہا تم ایک اور کام کرو میں نے تجس سے پوچھا کون سا تو کہتی ایک پیر بابا کا پتادیتی ہوں تمہیں اس سے دم کروا دو اپنے دیور پر اس سے اثر ہو گا اور تمہارے دیور کی شادی بھی ہو جائے گی۔ میں نے یہ سنتے ہی فورا اس سے اس پیر بابا کا پتا لے لیا اور دیور سے اس بارے میں بات کی تو اس نے صاف انکار کر دیا اس کام کو کرنے سے۔ پر میں نے بہت ضد کی اور اس کو تھوڑا جذباتی بھی کیا کہ میں تو تمہارا بھلا چاہتی ہوں تمہارے لئے سب کر رہی ہوں لیکن تمہیں کوئی پرواہ نہیں اپنی بھابھی کی بات ماننی نہیں تم نے۔ ایسی دو چار باتیں مزید کر کے اس کو اپنی بات کے گھیرے میں لے لیا۔
اور اگلے دن ہی ان معاملوں سے میں نے تنگ آکر اس کو دم کروانے لے گئی۔ پیر بابا کو سارا مسئلہ بتایا اور وجہ بھی جس کو سن کر انہوں نے کچھ باتیں کہیں جن پر اس وقت ہم نے عمل کیا پھر پیر بابا دم کر کے کہنے لگا اگلے جمعرات اس کارشتہ پکا ہو جائے گا اور اس بات نے میری آنکھوں میں روشنی بھر دی کہ اتنی اچانک جلدی کام ہو جائے گا مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا۔ میں نے تو حیرت کے سمندر میں ڈوبتے ہوئے بے یقینی کا اظہار بھی کر دیا۔ جس پر پیر بابا کچھ ناراض سے ہو گئے تو میں کھسیانی ہو گئی۔ پر میں کب سے یہ بات محسوس کر رہی تھی کہ پیر بابا میرے دیور کو بڑے غور سے دیکھ رہے تھے۔ جیسے باریک بینی سے اس کا جائزہ لے رہے ہو ۔ اس کے بعد انہوں نے میرے دیور سے اپنا فون 
نمبر مانگا۔

  Click Here For More

جبکہ رابطے کے لئے میں نے اپنا فون نمبر دینا چاہا کہ ان سے میں رابطے میں رہوں گی کیونکہ میرے دیور کو اس سب میں کہاں دلچسپی تھی جو وہ اس سے رابطے میں رہتا اور اس کے بتائے کاموں پر عمل کرتا۔ پر میری حیرت کی انتہاتب نہ رہی جب پیر بابا نے کہا تم اپنا فون نمبر نہیں دو اپنے دیور کا دو مجھے اس کا چاہئے۔ میں نے سہولت سے پیر بابا کے ناراض ہونے کے ڈر سے بات کو سنبھال کر پھر سے اپنا نمبر دینا چاہاتا کہ دیور بھی ناراض نہ ہو ۔ پر پیر بابا نے سختی سے منع کر دیا اور کہا۔ کام کروانا ہے تو جو جو میں کہوں وہ کرنا ہو گا جس کا یہ مسئلہ ہے اسی کا فون نمبر مجھے چاہئے اسی سے رابطہ رکھنا ہے میں نے کیونکہ کچھ معاملات ایسے ہیں جن کا تم لوگوں کو علم نہیں۔
پیر بابا کی بات پر میں نے اپنے دیور کو التجائی نظروں سے دیکھا تو اس نے نا چاہتے ہوئے بھی میری مان کر اپنا فون نمبر پیر بابا کو دے دیا۔ اس کے بعد جو خوشی و رونق میں نے پیر بابا کے چہرے پر دیکھی تو مجھے اس خوشی کی اصل وجہ سمجھ نہیں آئی۔ کہ اس میں تو عام بات ہے روز ہزاروں لوگ ان سے کام کروانے آتے ہوں گے اور ہزاروں سے وہ اس طرح بات کرتے ہوں گے فون نمبر لیتے ہوں گے پر یہاں جو ان کی میرے دیور سے فون نمبر لیتے وقت مسرت و خوشی تھی وہ مجھے تھوڑا سوچنے پر مجبور کر رہی تھی کہ ایسا کیوں ہے۔ میں دیور کو وہاں سے لئے گھر آگئی۔ اور یہاں وہاں اس کے لئے رشتہ دیکھنے لگی۔ کیونکہ جمعرات تک کہا تھا پیر بابا نے تو میں بھی جلدی کرنے لگی اور اپنے دیور کے لئے 
دوسرے رشتے دیکھنا شروع کر دیئے۔

  Click Here For More

ابھی ایک دو دن ہی اس بات کو گذرے تھے جب میں نے اپنے دیور کے اندر کچھ بدلاؤ سا محسوس کیا۔ وہ زیادہ وقت موبائل فون میں گم رہتا یا گھر سے باہر رہتا۔ اور اس کا لہجہ بھی بدلا ہوا تھا۔ میں نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے؟ اتنی جلدی ایسا بدلاؤ دیور کے اندر کہاں سے اور کیسے آگیا۔ یہاں میں اس کے لئے رشتے دیکھ رہی تھی جب اس سے اس بارے میں بات کرتی تو وہ ٹال مٹول کر دیتا بات کو ۔ اور میں نے پھر اس بارے میں اپنے شوہر سے بات کی۔ ان کو اپنے دیور کے اس بدلاؤ کا بتایا تو انہوں نے بھی حیرت کا اظہار کر دیا۔ ایک تو میرے شوہر کو دفتر کے کام سے فرصت کم ملتی تھی اس لئے وہ گھر پر کم دھیان دیتے تھے۔ ہر چیز مجھے سنبھالنی ہوتی تھی۔ اور ابھی تک ہماری کوئی اولاد بھی نہیں ہوئی تھی مجھے اولاد کا بہت شوق تھا۔
روز دعائیں کرتی تھی اس کے لئے اور مجھے امید تھی کہ میرے یہاں بھی اولاد ہو گی۔ پر کبھی کبھی یہ سوچ کر میں اداس اور دکھی ہو جاتی تھی جب اولاد کی کمی شدت سے محسوس ہوتی تھی۔ پر میرے شوہر بہت اچھے تھے۔ مجھے اس بات پر ہمیشہ مجھے تسلی دیتے تھے کہ جب اللہ نے چاہا تو ہمارے یہاں بھی اولاد ہو جائے گی۔اس کی رحمت سے ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ تو بس میں اسی امید پر بیٹھی تھی کہ مجھے یہ رحمت بھی ضرور ملے گی بس جلد یاد پر وقت کا دیر کوئی تعین نہیں تھا کہ کب۔ پر خیر اس وقت میں نے شوہر کو کہا کہ آپ نظر رکھے دیور پر کہ وہ باہر کہاں زیادہ وقت گزار رہا ہے۔ اور کس کے ساتھ ہوتا ہے۔ مجھے اس میں یہ تبدیلی کچھ عجیب محسوس ہو رہی تھی۔

  Click Here For More

کبھی پہلے اس کو اس طرح دیکھا جو نہیں تھا میں نے شاید اس لئے۔ وہ مجھے عزیز تھا اپنے بھائیوں کی طرح میں اس کو سمجھتی تھی تو اس کا اچھا برا سوچنا میرا فرض تو تھا ہی ساتھ زمہ داری بھی۔ کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی اس کے ساتھ کچھ برا ہو۔ کیونکہ وہ اپنی اس ہلکی سی کم سنائی دینے والی بیماری سے پہلے ہی بہت کچھ براسہ چکا تھا۔ لوگوں کی باتیں طعنے ان کی بری نظریں اور ہر طرف سے دھتکار نے اس کو احساس کم تر بنادیا تھا۔ اس بات کا مجھ کو بہت دکھ رہتا تھا اور میرے شوہر کو بھی۔ اس وقت میرے شوہر نے مجھے تسلی کروائی کہ وہ پتا کر وائیں گے نظر رکھیں گے کچھ دن اس پر کہ وہ آج کل کیا کر رہا ہے۔
ان کی تہ بھی۔ کیونکہ مجھے معلوم تھا اب انہوں نے ایسا کہا ہے تو وہ ایسا کریں دینے سے میں مطمئن ہو گئی تھی اور بے فکر گے بھی۔ پھر اگلے دن ایک جگہ دیور کے رشتے کی بات مجھے بڑھتی نظر آئی تو میں خوش ہو گئی کہ اس پیر بابا کی بات سچ ہوتی نظر آ رہی تھی۔ میں نے سوچ لیا تھا دیور کا رشتہ یکا ہو جائے تو چٹ منگنی پٹ بیاہ کروں گی۔ اور اس کہاوت پر عمل کروں گی جو کہتے ہیں ہتھیلی پر سرسوں جمانا ہے۔ اور پھر اس پیر بابا کے آستانے پر مٹھائی بھی لے کر جاؤں گی ان کا شکریہ ادا کروگی۔ میں نے اس رشتےکے بارے میں اپنے دیور سے بات کرنے کا سوچا اور اگلے دن ہی اس سے اس رشتے کے بارے میں بات کی اور کہا کہ اس بار تیاری پکڑو اپنی اس بار پکا ہے رشتہ ہو جائے
تو فور آشادی کروں گی تمہاری پر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب دیور نے انکار کر دیا۔ اور کہا آپ کو کہیں پر بھی رشتہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے اس کی بات سمجھ نہیں آئی اور اس سے پوچھا کہ ” پر کیوں؟ ” تو اس نے کہا جمعرات کا انتظار کریں آپ دیکھیں اس پیر بابا کی بات میں سچائی ہے یا نہیں کیسے ہو گا یہ ” اس کی بات پر میں نے کہا کہ “ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے رکھ کر نہیں بیٹھ سکتے کو شش تو ہم نے کرنی ہے ایسا تو بالکل نہیں بس بنا کچھ کیئے گھر بیٹھے جمعرات تمہارا رشتہ پکا ہو جائے گا کوشش کرنی ہمیں ہے۔
میری بات سن کر پھر اس نے جو مجھے سمجھایا اس نے میرے کان کھول دیئے کہ ” پھر تو اس کا کوئی فرق نہیں ہوانہ بھا بھی کہ وہی محنت ہم کریں جبکہ ہم نے تو اس پیر بابا کی بات پر یقین رکھ کے بیٹھنا ہے کیونکہ یہ دم تعویذ تو اس لئے ہوتے ہیں کہ کام خود بخود ہو جائے کوشش تو ہمیں دعا کرنے کے بعد کرنی چاہئے نہ کیونکہ اس میں دیر ہوتی ہے۔ پھر اس نے مجھے سمجھایا کہ یہ پیر باباوغیرہ کی بات کچھ نہیں ہوتی سب کچھ اللہ کرتا ہے اور اسی کے ہاتھ میں ہے یہ چکر چھوڑ دیں اس کے سمجھانے کے باوجود مجھے جمعرات کا پھر بھی شدت سے انتظار تھا۔ تجس تھا کہ دیکھتے ہیں تب کیا ہوتا ہے پر جب اگلی جمعرات آئی تو دیور خود ہی ایک لڑکی گھر لے آیا۔

  Click Here For More

سے اپنے دیور سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس کا جواب سن کر میرے اوپر آسمان ٹوٹ پڑا۔ اس نے کہا کہ ” میں نے شادی کرلی ہے بھا بھی یہ میری بیوی ہے۔ ” مجھے یقین نہیں آیا اس کی بات پر۔ حیران پریشان میں نے گھونگھٹ اٹھایا۔ اس لڑکی کا تو ہوش اڑ گئے کیونکہ وہ کوئی اور نہیں وہ بالکل اس پیر بابا جیسی تھی جس سے میں نے اپنے دیور پر دم کر وایا تھا۔ میں نے اس بات کا فوراً ان دونوں سے اظہار کر دیا تو دیور کی بات نے میرے چودہ طبق روشن کر دیئے کہ یہ وہی بابا ہیں” اور مجھے سمجھ نہ آیا کہ وہ کہنا کیا چاہتا ہے۔ اگر وہ بابا ہے تو لڑ کی کیوں ہیں ؟ کیا اس نے ڈرامہ کیا تھا سارا؟ وہ کیوں با بابنی تھی؟ وہ کون تھی ؟ اور میں حیران ہو گئی اس لڑکی کا حلیہ ایسا دیکھ کر دلہن کے روپ میں تھی وہ۔ میں نے حیرت
اتنے سارے سوال میرے ذہن میں اٹھ رہے تھے جن کا جواب مجھے اس لڑکی نے دیا کہ اس کا نام صبا ہے اور وہ بیوہ عورت ہے جو اپنی روزی روٹی کے لئے نقلی ڈارھی مونچھ لگا کر بابا بن کر بیٹھی ہوئی تھی کیونکہ اور کوئی کام اس کو مل نہیں رہا تھا اب جب اس نے میرے دیور کا مسئلہ سنا تو اس نے اپنے سہارے کا سوچا کہ وہ دیور سے نکاح کرے تو اس کو سہارا مل جائے گا اور گھر بھی۔ جبکہ میرا دیور بھی احساس کمتری کا شکار تھا اس کی بات مان کر فوراً اس سے نکاح کر لیا۔ مجھے اب سمجھ آیا تو یہ وجہ تھی جو وہ میرے دیور کا نمبر لینے پر ضد کر رہی تھی اور میرے دیور سے وہ رابطے میں تھی۔ اس وجہ سے دیور کا رویہ بدلا بدلا سا تھا۔ پھر صبا نے مجھے سمجھایا کہ تعویذ دم وغیرہ بیچ میں کچھ نہیں ہوتا ہم لوگ تو بس روٹی کی لالچ میں لوگوں کو گمراہ کرتے تھے۔

  Click Here For More

آپ ان پر یقین نہ رکھے سب جھوٹ ہے ہر کام کرنے والا واحد اللہ ہے۔ اور اس نے بھی تو بہ کر کے اب یہ کام چھوڑ دیا ہے۔ اس کے سمجھانے پر میں بھی سمجھ گئی ساری بات اور اللہ سے توبہ کی۔ اور پھر میں نے ہنسی خوشی ان کی شادی کو قبول کر لیا۔ اور بہت سکون سے اب ہماری زندگی گذر رہی تھی۔ کچھ وقت بعد میرے یہاں ایک بیٹے کی پیدائش بھی ہوئی تھی جس نے میری زندگی خوبصورت بنادی تھی

  Click Here For More 

Post a Comment

Welcome to my Blog

Previous Post Next Post