Mohabbat Karne Ka Anjam

 محبت کرنے کا انجام

https://channeljhang.blogspot.com/

چچا پٹھان تھا رات ہوتی تو چچی اپنا پچھلا حصہ باندھ لیتی صبح چچی کو دیکھتی تو گھسٹ گھسٹ کر چلتی میں شرم سے وجہ نا پوچھتی ایک روز مجھے چچی پر ترس آیا سوچا آج رات چھپ کر دیکھتی ہوں اور پھر صبح بات کروں گی۔ اس روز چچا آیا تو میں  کمرے میں چھپ گئی۔ میرے ہوش اڑ گئے چچا۔۔۔۔۔اس رات جو کچھ میں نے دیکھا وہ دیکھنے کے بعد تو جیسے میرے ہوش ہی اڑ گئے ۔ مجھے پہلی بار اپنے چچا سے نفرت محسوس ہوئی تھی میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ جس چچا کو میں باپ کا درجہ دیتی تھی اس کی سوچ اس قدر گری ہوئی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی ہی بیوی کے ۔۔۔۔۔۔۔ چچی بچاری زمین پر اوندھے منہ  گری ہوئی تھی

جبکہ چچا نے تو آج ہر حد ہی پار کر دی تھی اب مجھے سمجھ آرہی تھی کہ آخر میری چچی اپنا پچھلا حصہ باندھ کر کیوں چلا کرتی تھی۔ میں مارے خوف کے فورا وہاں سے ہٹ گئی مزید دیکھنے کی ہمت مجھ میں بچی ہی نا تھی یہ تو چچی کی ہی ہمت تھی کہ وہ ایک پٹھان کا۔۔ میں اپنے کمرے میں گہری نیند سو رہی تھی۔ جب میری سماعتوں سے کر اپنے کراہنے کی آواز ٹکرائی میں نے پہلے تو سوچا کہ شاید یہ میرا صرف خواب ہے یا پھر وہم مکر جیسے جیسے نیند سے بیدار ہو نا شروع ہوئی تو احساس ہوا کہ یہ کوئی خواب نہیں بلکہ حقیقت میں ہی مجھے کراہنے کی آواز آرہی ہے-

میں آنکھیں کھول کر آس پاس دیکھنے لگیں مگر کمرے میں تو مکمل تاریکی پھیلی ہوئی تھی رات کا ناجانے کون سا پہر تھا مکمل خاموشی کا راج تھا کھڑکی کی آگے گرا ہوا پردا جو تھوڑا ہٹا تھا اس سے ہلکی روشنی کمرے میں داخل ہو رہی تھی جس کا یہ مطلب تھا کہ صبح ہو چکی ہے مگر یہ کرانے کی آواز آخر کہاں سے آرہی تھی کون کرا رہا تھا میں اٹھ بیٹھی مجھے سوئے ہوئے تو صرف شاید دو تین ہی گھنٹے ہوئے تھے اس لیے مجھے میرا سر اس قدر بھاری محسوس ہو رہا تھا میں اٹھی اور سیدھی واش روم چلی گئی۔ واش بیسن میں فورا چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے تو کچھ آنکھیں کھلیں یہ تو میری چچی کی کراہنے کی آواز آرہی تھی

میرے دماغ میں بے ساختہ کل رات والا منظر گھومنے لگا چچی کے ساتھ آخر کیا ہوا تھا میری آنکھیں تو فورا پوری کی پوری کھل چکی تھی ایسے لگتا تھا جیسے ایک سیکنڈ میں ہی میری ساری نیند آنکھوں سے اڑن چھو ہو چکی ہے۔ میں فوراً اپنے کمرے سے نکل کر باہر لاؤنج میں آئیں تو میں ٹھٹھک کر ره گئی ۔ میری چچی کمرے کے دروازے کے پاس کھڑی تھی اور دروازے کے سہارے کھڑی کراہ رہی تھی چچی کی حالت دیکھ کر مجھے تشویش سی ہونے لگی میں چلتے ہوئے ان کو دیکھنے لگی انہوں نے اپنے سر پر ایک دو پٹا باندھ رکھا تھا گویا ان کے سر میں شدید درد اٹھ رہا ہو ۔ مگر ان کے بال بکھرے ہوئے تھے چہرے پر تو گویا برسوں کی تھکاوٹ نمودار تھی وہ کپکپاتے ہوئے دروازے کا سہارا لیے کھڑی تھیں۔

مگر آج ایک بار پھر انہوں نے اپنے کمر کے ساتھ ایک دوپٹا باندھ رکھا تھا مجھے دیکھ کر فورا سیدھی ہو کر کھڑی ہو گئی اور اپنے چہرے پر آئی پریشانی کو چھپاتے ہوئے کہنے لگی کہ بیٹا تم اٹھ گئی میں بس ناشتہ بنانے ہی والی تھی وہ دراصل تمہارے چچا مجھ سے رات گئے تک باتیں کرتے رہتے ہیں تو صبح پھر آنکھ ہی نہیں کھلتی۔ جبکہ میں حیرانگی سے ان کو دیکھ رہی تھی ایسے لگتا تھا جیسے وہ صدیوں کی مرئضہ ہوں میں چچی کے قریب گئی ان کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہیں۔ میں ان کے قریب جا کر کہنے لگیں کہ چچی جان آپ کی طبیعت ٹھیک تو ہے کہیں آپ بیمار تو نہیں چچی کہنے لگی کہ نہیں نہیں بیٹا میں بالکل ٹھیک ہوں بس ذرا سر میں درد تھا تو دوپٹہ باندھ لیا سر پر دوپٹہ باندھنا تو سمجھ میں آتا تھا

 مگر کمر کے گرد دوپٹہ باندھنے کا کیا مطلب تھا یہ میں سمجھ نہ سکی مگر خیر مزید پوچھنا مجھے اچھا نا لگا۔ مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ جب چچا کی شادی ہوئی تھی چچی کی کیسی اچھی صحت تھی گورا چٹا رنگ تھا لیکن اب کیسی زرد پڑ چکیں تھیں اور وقت سے پہلے ہی بوڑھی سی لگنے لگیں تھیں وہ جب چلتی ہوئی کچن میں گئی تو وہ عجیب بے ڈھنگے انداز میں چل رہی تھیں کمر پر ہاتھ رکھ کر چلتی ہوئی پھر گھسٹ گھسٹ کر چل رہی تھیں یوں لگتا تھا جیسے انہیں چلنے میں تکلیف ہو رہی تھی میں نے شرم سے چہرہ موڑ لیا مگر پھر گلہ کھنکار کر بولی کہ چچی خیریت تو ہے ؟؟؟ چچی نے ایک نظر مجھے پر ڈالی اور کہنے لگی کہ تم ابھی بیچی ہو ان معاملات میں مت پڑو میں تمہارے لئے ناشتہ بناتی ہوں تمہارے چچا بھی اسٹور سے آنے ہی والے ہونگے ۔ 

میں چھپ کر رہ گئی۔ ناجانے چچا ساری رات چچی کے ساتھ کیا کرتے تھے جو وہ صبح اپنے پچھلے حصے پر کپڑا باندھ کر چلا کرتی تھیں۔ میں یہی سوچ رہی تھی کہ تبھی چچا گھر میں داخل ہوئے انہیں دیکھتے ہی میں نے فورا اپنے سر پر دوپٹہ سیدھا کیا اور انہیں سلام کرنے لگی۔ وہ سنجیدگی سے سر جھٹک کر جواب دیتے ہوئے بولے۔ گل رخ ! جا کے میرے لیے دیسی گھی کا کول بھر کر لا۔۔۔ جسم میں زرا تھکاوٹ محسوس ہوتا ہے۔ چچا کی بات سنی تو فورا جا کر چچی کو بتایا۔ ان کا چہرہ تو سرخ ہو چکا تھا فورا بوکھلا کر بولیں کہ اچھا میں دیتی ہوں تم جا کر کوئی اور کام کر لو۔۔ میں حیران تھی کہ چچا نے بس گھی ہی تو مانگا آخر چچی اتنا ڈر کیوں رہی تھیں۔ میرا تعلق ایک پٹھان قبیلے سے تھا 

میرے والدین کی وفات ہو گئی تو میں پشاور سے ایبٹ آباد اپنے چچا کے پاس آگئی۔ چچا کہنے لگے کہ آج سے تم ہماری بیٹی ہے ہم تم کو والد بن کر پالے گا۔ میرے چچا بھی خالص پٹھان تھے انتہائی سخت اور مذہبی قسم کے جبکہ میری چچی ایک پنجابن تھی۔ چچا نے ان سے پسند کی شادی کی تھی مگر اب تو چچی شاید چچا سے پناہ مانگا کرتی تھی۔ چچا کا رویہ بھی کافی سخت ہو چکا تھا مگر اس کے باوجود ان کے تعلقات کیسے تھے یہ تو میں آج تک جان نہیں سکی تھی۔ چچا نے نیم گرم دیسی گھی کا پیالا ایک ہی سانس میں پی لیا اور پھر چچی کو ناجانے سر گوشی میں کیا کہنے لگے کہ وہ سہم کر پیچھے ہٹ گئیں وہ نفی میں گردن ہلانے لگی تھی مگر چچا کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ پھیلی تھی۔

میرے چچا کا رویہ میرے ساتھ تو باپ جیسا ہی تھا مجھ سے نرمی سے بات کرتے تھے لیکن چچی کے ساتھ وہ بات کرتے ہوئے ہمیشہ تیوری چڑھالیتے میری چچی چچا سے بہت چھوٹی تھیں مجھے ابھی بھی یاد ہے جب انکی شادی ہوئی نمی وہ دھان پان سی بیس سال کی دبلی پتلی سی تھیں اور چچا اس وقت چالیس کے لگ بھگ تھے چچا کی کوئی اولاد بھی نا تھی ایک بار میں نے چچی سے پوچھا بھی کہ ان کے کوئی اولاد کیوں نہیں ہے میری بات پر انکے آنسوں بہنے لگے تھے کہنے لگی تیرے چچا  کو پسند نہیں میں سوچ میں پڑ گئی تھی کہ چچا کو کیوں اولاد نہیں پسند جب امی نے یہ بتایا تھا کہ چچا چچی کی محبت کی شادی ہے اور وہ چچی کو بھگا لائے ہیں تو مجھے یہ سن کر چچی سے ملنے کا بڑا اشتیاق تھا

ہم سب چچا کی شادی کے لئے گئے تھے لیکن اس وقت بھی چچی کی رنگت اڑی ہوئی تھی بار بار یہی کہہ رہیں تھیں کہ مجھے بھاگ کے شادی نہیں کرنی تھی میرے گھر والے یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکتے پھر میں نے باتوں باتوں میں یہ بھی سنا تھا کہ چچا بندوق دیکھا کر انہیں اپنے ساتھ لائے ہیں اس وقت ابا کی اور چچا کی بڑی بحث ہوئی تھی لیکن چچا کے غصے کے سامنے سب ہی چپ ہو گئے تھے چچا کی شادی ہو گی مگر شادی کی اگلی صبح چچی بہت رو رہی تھیں اس کے بعد ہم پشاور واپس چلے گئے تھے لیکن آج جب وقت مجھے ہمیشہ کے لئے یہاں لے آیا تھا میں پریشان کی ہو گئی تھی میرے دل میں دن با دن تجسس بڑھتا ہی چلا جارہا تھا۔ اس رات جب میں اپنے کمرے میں سونے کے لئے لیٹی تو کچھ ہی دیر میں آنکھ لگ گئی آدھی رات کو پیاس کی وجہ سے آنکھ کھل گئی۔

 کمرے میں پانی موجود نا تھا اس لئے جب اٹھ کر کچن کی جانب جانے لگی تو چچی کے کمرے سے عجیب و غریب آوازیں آرہی تھیں۔ چچی دبی دبی آواز میں کراہ رہی تھیں جبکہ چچا ہانپتے ہوئے خالص پشتو میں ناجانے ان سے کیا کہہ رہے تھے ۔ ہاں میں بھی پٹھان تھی مگر چونکہ پشاور شہر میں پلی بڑھی تھی اس لئے پشتو سے زیادہ مجھے اردو میں مہارت حاصل تھی۔ چانا جانے چچی کے ساتھ ایسا کیا کر رہے تھے کہ وہ کراہ رہی تھیں۔ میرا جسم تو جھر جھری لے کر رہ گیا۔ چہرہ سرخ ہونے لگالیوں میاں بیوی کے کمرے کے باہر کھڑے رہنا اچھی بات تو نہیں تھی مگر نا جانے کیوں مجھے لگا جیسے کچھ تو ہے جو ٹھیک نہیں ہو رہا تھا۔ خیر صبح ہوئی تو چچی ایک بار پھر کمر کے پچھلے حصے پر کپڑا باندے ہوئے چل رہی تھیں

 آج تو ان کی حالت کل سے بھی زیادہ خراب تھی صاف لگتا تھا کہ جیسے وہ بے حد بیمار ہو ان سے تو چلنا بھی دوبھر ہو رہا تھا۔ شرم کے مارے کچھ پوچھ بھی نہیں سکتی تھی کہی میرا پوچھنا چچی کو برا نا لگ جائے۔ دل میں عجیب و غریب سے وسوسے آرہے تھے مگر چاہ کر بھی چچی سے دریافت نہیں کر سکتی تھی۔ چچی کو تیز بخار ہو رہا تھا میں نے جب چچا کو بتایا تو سر سری سے انداز میں کہنے لگے ایسی حالت میں اکثر ہو جاتا ہے اس کو عادت نہیں ہے نا اس لئے نازک کلی بنا پھر رہا ہے۔ تم کو اس کا درد نظر آگیا مگر جو تکلیف مجھے ہوئی وہ تم کو اب میں کیسے بتاؤں ؟؟؟ چچا سنجیدگی سے کہتا ہوا چچی پر نظر ڈالتے ہوئے وہاں سے جاچکا تھا جبکہ میں شرم سے سر جھکائے بیٹھی رہ گئی مجھے تو دیسے بھی چچا سے بہت شرم آتی تھی

 جبکہ چچی کے ساتھ بھی ایک حد تک ہی بات کیا کرتی ۔ ناجانے ان کی بات کا کیا مطلب تھا میں کچھ بھی سمجھ نہیں پارہی تھی۔ چچا کچھ تو غلط کر رہے تھے چچی کے ساتھ تبھی تو ان کی طبیعت اس جد تک بگڑتی چلی جارہی تھی۔ یہ دونوں تو کہی سے بھی خوشحال جوڑی نہیں لگتے تھے۔ چچی کی طبیعت اس قدر خراب تھی مگر اس کے باوجود ہر صبح چچی کے کراہنے کی آواز میں ارہی ہوتی تھیں کئی بار تو وہ رو بھی پڑتی میں شرم اور خوف سے اپنے کمرے میں ہی دبک کر بیٹھی رہتی کہ کہی چچا مجھے مداخلت کرتا دیکھ غصہ میں اکر میرے ساتھ بھی وہ سب ناکردیں جو وہ چاچی کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ بحر حال مجھے اب چچی پر ترس آنے لگا تھا جو بھی تھا چا اب ان کے ساتھ نا انصافی کر رہے تھے وہ ان کی بیوی تھیں انہیں ان کا خیال رکھنا چاہیے تھا

یہی سوچتے ہوئے میں فکر مند سی ہو گئی اگلے روز صبح کے وقت میرے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی تو میں بوکھلا کر اٹھی دروازے پر چچا کھڑے تھے میرے تو انہیں دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو گئے وہ کہنے لگا گل رخ ! تمہاری چچی بیمار ہے آج تم ہم کو ناشتہ بنادے گا ؟؟ اسٹور کے لئے دیر ہو رہا ہے۔ میں سمجھتے ہوئے بولی کہ چچی کو کیا ہوا ہے چچا جان ! ؟ وہ نظریں چرا کر بولے کچھ نہیں بس پنجا بن ہے ناتو پٹھان کا غصہ دیکھ کر ہی بہوش ہو جاتا ہے۔ چچا کیا بات کر رہے تھے مجھے کچھ سمجھ ہی نا آیا۔ عجیب پہیلیوں میں الجھا کر رکھ دیا گیا تھا مجھے میں نے چچا کو ناشتہ دے کر روانہ کیا اور پھر فورا چچی کے کمرے میں آگئی جو منظر مجھے دکھائی دیا وہ دیکھ کر میرے تو ہوش اڑ چکے تھے۔

چی بستر کے ساتھ فرش پر گری پڑی تھیں۔ ان کے چہرے پر تو عجیب لال لال نشان پڑے تھے ۔ وہ بے سدھ سی نیم بہوش گری تھیں میں ان کے قریب گئی اور ان کو اٹھانے لگی ان کا وجود آگ کی طرح جل رہا تھا۔ نیم بہوشی میں ہی وہ جو الفاظ ادا کر رہی تھی وہ سن کر میں شرم سے ہی پانی پانی ہو گئی۔ مجھے سمجھ نا آئی کہ آخر میں کیا جواب دوں۔ چچی بخار کی حالت میں وہ سب بتا چکی تھی جسے سننے کے بعد میر اوجود کانپ گیا۔ میں نے اس روز چچی کا بھر پور خیال رکھا مجھے ان پر شدید ترس آیا تھا مگر تب تک یقین نہیں کر سکتی تھی جب تک اپنی آنکھوں سے سب کچھ ہوتا ہوا نا دیکھ لوں۔ پٹھان گرم مزاج تو ہوتے ہیں ہی انہیں کب کہاں غصہ آجائے کوئی علم نہیں ہوتا مگر میرے چچا تو سب کے سردار نکلے تھے

بیچاری چچی ۔۔۔۔۔ بحر حال اس رات جب چچا گھر آئے تو میں کھانا کھا کر جلدی سونے کا بہانا کرتے ہوئے کمرے میں چلی آئی اور جا کر چا کے کمرے میں الماری میں بیٹھ کر چھپ گئی۔ میں آج یہ پتہ لگانا چاہتی تھی کہ میر اشک ٹھیک ہے یا میں بلاوجہ ہی غلط سوچ رہی ہوں۔۔ ؟؟ ایسا کرنا غلط تھا مگر یہ چچی کی زندگی کا سوال تھا۔ مجھے ڈر بھی تھا کہ کہی چچا جے الماری کھول کر دیکھ لیا تو ۔۔ ؟؟ سوچ کر ہی جھر جھری لے کر رہ گئی۔ کچھ دیریں آگئے وہ کافی سنجیدہ لگ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں تو جیسے خون اترا ہوا تھا وہ چچی کے قریب گئے اور انہیں پیروں کی ٹھوکر مار کر کہنے لگے تک ایسے کیسے سو سکتا ہے ؟؟؟

پہلے تم میرے سوال کا جواب دے گا اس کے بعد ہم تم کو سونے دے گا۔ چچی کتنی ہی دیر کچھ نا بولیں وہ رونے لگیں تھیں اور شاید بے حد تھک چکی تھیں فورا اٹھ کر بیٹھی اور چچا کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگیں کہ میں جھوٹ نہیں بول رہی وہی بتایا ہے کو سچ تھا ایسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا آپ سمجھ رہے تھے ۔ خدا کا واسطہ ہے مجھے بخش دیں۔ میں مزید نہیں سہہ سکوں گی۔ مگر چچا اسی پل چچی کو بالوں سے دبوچ کر کہنے لگے خبر دار ! جو تم نے جھوٹ بولا۔ ہم کو شعیب فروٹ والا نے سب کچھ سچ سچ بتا دیا تھا۔ وہ چشم دید گواہ ہے تمہارا کہ تم ہمارے جانے کے بعد اس نوید کو اشارے کرتی رہی۔ اس کے ساتھ تمہارا تعلق ہے۔ ہم نے تم کو جان سے بھی بڑھ کر عزیز رکھا مگر تم تو دھو کے باز نکلی اب بھگتو۔۔۔ 

ایک پٹھان کی محبت دیکھی تھی تم نے اب اس کی نفرت بھی دیکھو۔۔۔ وہ میری نظروں کے سامنے چچی پر تشدد کرنے لگے مگر ایسا کرنے سے پہلے انہوں نے ان کے منہ میں کپڑا ٹھوس دیا تا کہ آواز باہر نا جا سکے۔ چچی کو مار کھاتا دیکھ میر اوجور کپکپانے لگا میں کانپنے لگی تھی چا تو ان کہ کمر پر بے تحاشہ تشدد کر رہے تھے بچاری چچی لوٹ پوٹ ہو کر کہنے لگی میری تو غلطی ہی یہ تھی کہ تم جیسے شخص سے شادی کر لی جسے اپنی بیوی سے زیادہ ایک راہ چلتے سبزی فروش کی بات پر اعتبار تھا۔ ایک بار بھی مجھے سے پوچھنے کی کوشش نا کی کہ وہ سبزی والا آخر مجھ سے کہہ کیا رہا تھا۔ مگر چچا تو کچھ سننا ہی نہیں چاہتے تھے ۔ کچھ دیر بعد جب چا کمرے سے نکلے اور چچی نیم بہوش تھی تو موقع دیکھ کر میں کمرے سے بھاگ آئی مجھے تو یقیقن ہی نہیں آرہا تھا

 کہ چچا اس قدر کچھے کانوں کے بھی ہو سکتے ہیں۔ بچی بخار میں بھی یہی بڑبڑا رہی تھی۔ کہ انہوں نے چچا جیسے موٹی عقل کو شوہر بنا کر بہت بڑی غلطی کر دی چا یہی کہتے تھے جب تو مجھے سے عشق کے پیچے لڑا سکتی ہے تو کسی اور سے بھی محبت کر سکتی ہے۔ میں سمجھ گی تھی کہ مسلہ کیا ہے میرے چچا کیوں شکی تھے وہ لڑکی جو چار دن کی محبت میں برسوں کی ماں باپ کی محبت کو داؤ پر لگادے اسے کہیں عزت نہیں ملتی شوہر کے گھر بھی نہیں وہی شوہر اسے ساری زندگی اس چار دن کی محبت کی سزا دیتا ہے جیسے میرے چاچی کو دے رہے تھے اور ناجانے یہ ظلم کب تک جاری رہنے والا تھا کاش کے لڑکیاں گھر سے بھاگ جانے سے پہلے اس بارے میں بھی ضرور سوچا کریں چچی نے چچا سے محبت کا اعتراف کیا تو اسے بندوق کی نوک پر بھگا لائے کیا ضرورت تھی اس محبت جیسی مصبت میں پھنسنے کی کون سی خوشی مل گئی تھی۔ چچی کو۔۔۔ بہر حال محبت کا یہ انجام دیکھ کر میرا دل کانپ اٹھا تھا

Post a Comment

Welcome to my Blog

Previous Post Next Post